ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلوروں کے ایک اسپتال میں خاتون عملہ کی عصمت دری، شکایت درج کرنے کے دوران متاثرہ کے ساتھ پولس پر بے ہودہ سوالات کرنے کا الزام

بنگلوروں کے ایک اسپتال میں خاتون عملہ کی عصمت دری، شکایت درج کرنے کے دوران متاثرہ کے ساتھ پولس پر بے ہودہ سوالات کرنے کا الزام

Mon, 23 Oct 2017 11:30:53    S.O. News Service

بنگلورو،22 ؍اکتوبر(ایس او نیوز) بنگلوروشہر کے ایک  اسپتال میں صفائی کرنے والی ملازمہ کے ساتھ عصمت دری کی واردات پیش آئی ہے بتایا گیا ہے کہ  عصمت دری کرنے والا ملزم اسپتال کاہی ایک ملازم تھا، یہ حادثہ 15 اکتو بر 2017 کو پیش آیا، 22 سالہ متاثرہ نے مبینہ طور پر جب اس کی شکایت پولیس اسٹیشن میں کرنے گئی تو ان سے اس قدر بے ہودہ سوالات کئے گئے کہ وہ حیران اور پریشان ہوگئی۔

 متاثرہ نے اخباری نمائندوں کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کارپوریشن سرکل کے پاس ایک اسپتال میں ہاؤزکیپنگ ڈپارٹمنٹ میں ملازمت کرتی ہے، وہاں پر کام کررہے ایک دوسرے ملازم رامانجی(42 )نے اس کے ساتھ عصمت دری کی اور انہیں دھمکی دی  کہ اگر اس سلسلہ میں اس نے کسی کو بتایا تو اس  کی نوکری چلی جائے گی، اس کے باوجود اس نے سمپنگی رام نگر پولیس اسٹیشن پہنچ کر شکایت درج کروانا چاہا، مگر وہاں پر موجود پولیس اہلکار نے ان سے اس طرح بے ہودہ سوالات کئے کہ وہ حیران ہوگئی، متاثرہ نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ پولیس اہلکار نے ان سے پوچھا کہ ان کی مرضی کے بغیر یہ کام نہیں ہوسکتا، اس پر وہ پریشان ہوکر واپس گھر لوٹی اور اپنے شوہر کو ساری باتیں کھل کر بتائی، اس سلسلہ میں ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ بیاٹرائن پورہ کی رہنے والی متاثرہ کی شکایت درج کرلی گئی ہے، معاملہ کی کارروائی ہورہی ہے، پولیس افسر کے مطابق42 سالہ رامانجی ڈوڈ بالا پور کا رہنے والا ہے، کافی دنوں سے وہ اس اسپتال میں کام کررہا تھا، اس کے 2 بچے بھی ہیں، اسپتال انتظامیہ نے رامانجی کو پرائیویٹ ایجنسی کے ذریعہ اسے ملازمت پر  رکھا تھا،ایجنسی نے اس کی نجی زندگی کے بارے میں تحقیقات نہیں کروائی تھی، پولیس نے بتایا کہ رامانجی کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔اس سے پوچھ گچھ کی جارہی ہیں کہ ماضی میں اس طرح کے جرائم بھی اس سے سرزد ہوئے ہیں یا نہیں، متاثرہ کے شوہر اور بھائی نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ سمپنگی رام پولیس اسٹیشن میں عملہ نے متاثرہ کے ساتھ جو سلوک کیا ہے، اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے، انہوں نے بتایا کہ اس کے لئے وہ پولیس ہائی کمان تک جائیں گے، اور مطالبہ کریں گے کہ ایسے پولیس اہلکاروں کو فوراً برطرف کیا جائے، اس کے علاوہ خاتون کے ساتھ براسلوک کرنے پر ان کے خلاف کارروائی بھی کی جائے۔


Share: